Home / Daily basis novel / Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 1 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 1 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 1 By Farwa Mushtaq

Finally Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 1 By Farwa Mushtaq is novek k tamam kirdar farzi hain. here is the Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 1 By Farwa Mushtaq. So it is is an episodic (silsilay waar) novel. this is the first episode 2nd episode will be uploaded on friday.

dil ki dharkan ho tum
dil ki dharkan ho tum

دل کی ڈھڑکن ھو تم

Episode 1

“اوکے ڈیڈی میں جا رہی ہوں۔دیکھ لیں آپ اسبار بھی میرے ساتھ نہیں جا رہے۔اب کسی دن میں نے آپ سے پکا والا ناراض ہو جانا ہے۔”
اس نے ایک بازو میں ہینڈ بیگ ڈالے،ہاتھ میں فون تھامے اور دوسرا بازو ڈیڈی کے گلے میں ڈال کر ان کے ساتھ لگتے ہوئے کہا۔
“میں ضرور جاتا میری جان مگر مجھے ہیڈ کوارٹر سے کال آ گئی ہے اور وہاں جانا زیادہ ضروری ہے۔تم سی ڈی لے آنا پراگرام کی میں دیکھ لوں گا۔”
“اوکے اللہ حافظ۔”
وہ انہیں ہاتھ ہلاتی کہہ کر باہر کی جانب بڑھی لیکن ایک منٹ پورا ہونے سے پہلے ہی چیختی ہوئی واپس آئی۔
“ڈیڈی آج آپکا بیٹا میرے ہاتھوں نہیں بچے گا۔میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔ہے کہاں یہ۔ضرور اب مجھ سے ڈر کر کہیں چھپا بیٹھا

 

ہو گا۔”
“ہوا کیا ہے ؟”
“کیا ہونا ہے۔اس نے میری گاڑی کے ٹائر کی ہوا نکال دی ہے۔ہائے اللہ کنسرٹ شروع ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا ہے۔مجھے آج ایوارڈ ملنا ہے اور جب میں ہی وہاں پہ نہیں ہوں گی تو سوچیں کیا ہو گا۔یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ مجھے کوئی ایوارڈ ملے۔اس سے برداشت ہی نہیں ہوتی میری کامیابی۔بس آج آپ اس پہ فاتحہ پڑھ لیں۔”
وہ سکندر کو ہنستا چھوڑ کر چیختی ہوئی ان کے بیٹے کے کمرے میں پہنچی۔
سامنے ہی وہ بے خبر بلیکنٹ اوڑھے سو رہا تھا۔غصے سے بھری اس کے سر پہ پہنچی اور ٹیبل پہ پڑا پانی والا جگ اٹھایا۔اس سے پہلے کہ وہ جگ اس پہ انڈیلتی نظر بیڈ کے سائڈ ٹیبل پہ رکھی کی چین پہ پڑی۔کچھ سوچ کر آنکھیں فوراً چمک اٹھیں۔
اس نے اسے دیکھتے ہوئے آہستہ سے جگ واپس رکھا اور کی چین اٹھا لی۔ابھی چوروں کی طرح صرف ایک قدم آگے بڑھی تھی کہ کلائی اس کی مضبوط گرفت میں آ گئی۔
“اف اللہ۔میں کیسے بھول گئی یہ تو سوتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے۔”
اس نے زبان دانتوں تلے دبا کر آہستہ سے گردن گھما کر پیچھے مڑ کے دیکھا وہ آنکھیں سکیڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“جی فرمائیے کیا مسئلہ ہے ؟”
“یہ تو آپ مجھے بتائیں کیا مسئلہ ہے۔۔۔خیر تو ہے سورج مشرق سے ہی نکلا ہے نا۔۔۔آج صبح سویرے اتنا سج سنور کے آپ مجھے اٹھانے چلی آئیں۔۔۔کیا واقعی۔۔۔ کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ؟”
تبھی تاشیہ کو یاد آیا وہ یہاں پہ کیوں آئی تھی۔
“پہلے تم مجھے بتاؤ کیا کیا ہے میری گاڑی کے ساتھ۔تمہارا کیا خیال تھا میں کنسرٹ چھوڑ دوں گی۔اب میں تمہاری گاڑی لے کر جارہی ہوں۔خبردار اگر تم نے آئندہ میری معصوم سی کار کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی کی تو ورنہ تمہاری ایکارڈ کو میں کسی کھمبے میں مار کر اگلے جہاں پہنچا دوں گی۔”
لیکن وہ اسکی بات سنے بغیر شوخ نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں میک اپ کے نام پہ صرف ایک لپ اسٹک لگی ہوئی تھی۔اسٹیپ میں کٹے بالوں کی چند لٹیں اس کے چہرے پہ آ رہی تھیں۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے چہرے پہ آئی لٹ کو پیچھے کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تبھی تاشیہ نے اسکے ہاتھ پہ تھپڑ مارا۔
“اپنی حد میں رہو۔زیادہ اوور ریکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں ابھی کے ابھی ڈیڈی کو تمہاری ایک ایک بات بتا دوں گی۔”
“اف ایک تو تم اور تمہارے ڈیڈی۔تم دونوں مجھے جینے نہیں دو گے۔ایک منٹ میں ستیاناس کر دیا کرو میرے موڈ کا۔”

 

“تو اپنے موڈ کو ذرا سنبھال کے رکھو ورنہ مجھے ٹھکانے لگانا خوب آتا ہے۔اب میں جارہی ہوں اور ہاں نیوز چینل پہ مجھے ایوارڈ لیتے وقت ضرور دیکھنا۔بائے۔”
تاشیہ اسے چھوڑ کر ٹائم دیکھتی ہوئی فوراً کمرے سے باہر نکلی۔وہ مسکراتے ہوئے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔تاشیہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنی گاڑی لے جانے پہ وہ اس کو کچا چبا جاتا مگر اس لڑکی کی بات اور تھی۔
باہر ونڈو کی طرف دیکھ کر موسم کا اندازہ لگاتے ہوئے وہ پھر سے بلینکٹ اوڑھ کر لیٹ گیا۔اللہ اللہ کر کے مہینے بعد ایک چھٹی نصیب ہوئی تھی اور اب اس نے سارا دن سو کر گزارنا تھا۔
“اوکے ممی ڈیڈی میں جارہی ہوں۔”
“اب کیسے جاؤ گی؟”
“فکر نہ کریں اس کی چابی لے آئی ہوں میں۔ویسے ڈیڈی آج تو میری ٹور ہی الگ ہو گی جب میں اس کی گاڑی سے نکلوں گی۔میں نے کیمرے والے سے کہنا ہے ایک تصویر تو میری ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے بیٹھے بنائے۔”
وہ سکندر اور معظمہ دونوں کو خدا حافظ کہتی باہر کو بھاگی۔معظمہ نے اس پہ آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی۔ان کے گھر میں خوشیوں کی وجہ یہ دونوں ہی تھے۔

 

 

________________________________
آج اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں ان لوگوں کی میٹنگ تھی جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر اس سر زمین کی حفاطت کرتے ہیں۔اس وقت کمرے میں ٹوٹل آٹھ لوگ موجود تھے جو مکمل بلیک یونیفارم پہنے ٹیبل کے کارنر پہ کھڑے شخص کو غور سے سن رہے تھے۔یہ تمام انٹر سروس انٹیلیجنس کے ذہین ترین دماغوں کے بے داغ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے۔یہ سب ڈبل ڈیوٹی سر انجام دیتے تھے۔ان کو عام زبان میں خفیہ والے یعنی ایجنٹس بھی کہا جاتا تھا۔یہ آرمی میں میجر ، کیپٹن اور لیفٹیننٹ جیسے عہدوں پہ فائز تھے۔اپنے خفیہ مشن نمٹاتے وقت انہیں آرمی کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ان آٹھ لوگوں میں سے صرف تین لوگ ایک دوسرے کے اصل سے واقف تھے کیونکہ وہ آرمی میں بھی اعلیٰ عہدوں پہ فائز تھے۔باقی سب سوائے ناموں کے کچھ نہیں جانتے تھے۔نام سے بھی وہ سب اس لئے واقف تھے کہ جو کام انہیں سونپا جا رہا تھا وہ انہوں نے ایک ساتھ اور ایک ہی جگہ پہ ڈیل کرنا تھا۔کمرے کی ساؤنڈ پروف چاردیواری کے باہر اس مشن کے لیے چنے جانے والے ان آٹھ لوگوں کے نام اور کام سے ہوائی مخلوق تک واقف نہ تھی۔
“اس سر زمین کو ہمیشہ کی طرح آج بھی آپ لوگوں کی ضرورت ہے۔اس کی حفاظت آپ نے کرنی ہے۔جو مشن آج آپکو سونپا جارہا ہے وہ انٹرسٹنگ ہونے کے ساتھ ساتھ امیزنگ بھی ہے۔ملک دشمن عناصر اس پاک زمین پہ اپنے جال پھیلا رہے ہیں۔اس سے پہلے کہ۔وہ ہمارے لوگوں کو اس جال میں کسیں آپ کو انہیں ختم کرنا ہے۔مقابلہ صرف تب ہوتا ہے جب دشمن سرحد سے دور رہے لیکن جب وہ سرحد پار کر لے تب اسے موت کے گھاٹ اتارنا لازم ہے۔کیا آپ سب ملکی دفاع کے لیے پر عزم ہیں؟”
“یس سر۔”
ٹیبل کے اردگرد موجود سب لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا۔
“میجر شاہان یہ اسائنمنٹ آپکو سونپی جا رہی ہے۔کین یو کمپلیٹ اٹ؟”
باس نے فرسٹ سیٹ پہ بیٹھے نوجوان میجر شاہان کو مخاطب کیا۔
“آف کورس سر۔۔۔وائے ناٹ۔۔۔آئی ول بی گریٹ فل ٹو یو۔”
“اس اسائنمنٹ کی ڈیڈ لائن ٹھیک ایک ماہ کے بعد ہے مگر مجھے یہ کام پچیس دنوں کے اندر چاہیے۔اس فائل میں ٹارگٹ کے متعلق انفارمیشن ہے۔وہ کس جگہ پہ رہتا ہے۔۔۔کیا کرتا ہے۔۔۔اور کس نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سارا کام آپ نے خود کرنا ہے۔”
باس نے کہتے ہوئے فائل اسکی جانب بڑھائی۔
اگلے پینتالیس سیکنڈز میں میجر شاہان نے فائل میں لگے چاروں صفحات پلٹائے۔
“اوکے سر۔ٹھیک پچیسویں دن اس زمین سے ان لوگوں کا صفایا ہو جائے گا۔انشاءاللہ۔”
“انشاءاللہ۔آپکو ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہو گی بٹ مجھے کل اس شخص کے متعلق کمپلیٹ انفارمیشن چاہیے۔کل کو اسی وقت اسی جگہ پہ ہم آٹھ لوگوں کے درمیان میٹنگ ہو گی۔آفٹر اٹ یو ول سٹارٹ یور ورک۔”
“اوکے سر۔”
وہ سب باس کو سلیوٹ کرتے ایک ایک کر کے کمرے سے باہر نکل گئے۔
________________________

 

“میں کل کو کراچی جارہا ہوں۔”
ناشتے کی ٹیبل پہ اس کی بات پہ صرف ممی نے سر اٹھایا۔سکندر اور تاشیہ بغیر چونکے مطمئن انداز میں ناشتہ کر رہے تھے۔
“خیریت؟”
“یس۔آفس کے کام سے۔”
“کتنے دنوں کے لیے؟”
“دو چار دن لگ سکتے ہیں یا ہو سکتا ہے پہلے ہی آ جاؤں۔”
“سدرہ سے ملنے جاؤ گے؟”
“نہیں ممی۔اس بار خالہ سے نہیں مل سکتا نیکسٹ ٹائم سہی۔ویسے بھی صرف دو چار دنوں کے لیے جانا ہے۔آفس کی مصروفیات کی وجہ سے ٹائم ہی نہیں ملے گا۔”
“اوکے۔”
انہیں جانے کی خبر سنا کر وہ پھر سے ناشتہ کرنے لگ گیا۔

 

________________________
آج پھر ساؤنڈ پروف کمرے میں ISI کے آٹھ ایجنٹس کے درمیان میٹنگ تھی۔سب لوگ ٹیبل کے اردگرد بیٹھے تھے۔
میجر شاہان نے بورڈ پہ نقشہ پن اپ کر کے اس پہ سرخ دائرے لگا کر اجازت طلب نظروں سے باس کو دیکھا۔اجازت ملتے ہی وہ ٹارگٹ کے متعلق انفارمیشن شئیر کرنے لگا۔
“سر یہ شخص پاکستان میں رستم شاہ کے نام سے جاتا ہے جبکہ اسکا اصلی نام رتک بھنیشور ہے۔یہ پاکستان میں ڈرگز سمگلنگ کرتا ہے۔یہ صرف ایک شخص نہیں ہے ان لوگوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو ہمارے ملک میں بے حد تیزی سے پھیل رہا ہے۔
دی موسٹ انٹرسٹنگ تھنگ از دیٹ ڈرگز کی سمگلنگ بارڈر کے ذریعے نہیں ہوتی۔یہ پانی کے ذریعے ہوتی ہے اور انکا راستہ یہ والا ہے۔”
اس نے میپ پہ موجود سرخ دائروں پہ سٹک پھیری۔
“سمگلنگ روز نہیں ہوتی یہ ایک مہینے میں دو بار ہوتی ہے اتوار کی رات کو۔وہاں سے یہ لوگ بھیس بدل کر آتے ہیں اور اگر کبھی یہ لوگ پکڑ ہو جائیں تو انکے پاس سوائے کپڑوں کے کچھ نہیں ہوتا۔ہر چھ ماہ یا ایک سال بعد جب ملکوں کے درمیان بے گناہ قیدیوں کا تبادلہ ہوتا ہے تب یہ لوگ ان بے گناہوں کی لسٹ میں آ جاتے ہیں جو غلطی سے مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سرحد کراس کر گئے۔ ہر سال ہمارے ملک سے دس سے زائد بے گناہ قیدی واپس جاتے ہیں۔ان میں کچھ واقعی بے گناہ اور معصوم ہوتے ہیں جبکہ تین سے چار لوگ اس گینگ کے آلہ کار ہوتے ہیں۔
پانی کے اردگرد یہ سب خانہ بدوشوں کی طرح جھونپڑیاں لگا کر رہتے ہیں۔اس کام کے لیے ایک بندے کو فی چکر کا ایک لاکھ روپیہ دیا جاتا ہے۔یہ لوگ فوراً واپس نہیں جاتے بلکہ پندرہ دن بعد جب دوسرا ساتھی مال کی ڈیلیوری کر دیتا ہے تب وہ اس جھونپڑی میں اگلے پندرہ دن تک سٹے کرتا ہے اور پھر پہلا شخص واپس چلا جاتا ہے۔ان میں سے کئی کے پاس بہت سے ملکوں کے شناختی کارڈز ہیں۔یہاں پہ جب وہ پانی میں جاتے ہیں تو اردگرد کی آرمی کو اس ملک کا شناختی کارڈ دکھاتے ہیں جب یہ سرحد کراس کرتے ہیں تو جب دوسرے ملک کی آرمی ان سے پوچھ گیچھ کرے تب ان کے پاس اس ملک کی شناخت موجود ہوتی ہے۔پکڑے صرف وہی لوگ جاتے ہیں جو نئے نئے اس دھندے میں آئے ہوں جن کے پاس صرف ایک شناخت ہو۔”
ٹیبل کے اردگرد موجود لوگ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پھنسائے اور آنکھیں سکیڑے اسے بولتا سن رہے تھے۔
“اب آتے ہیں دوسری بات کی طرف۔
رستم شاہ اس دھندے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔وہ اکیلا نہیں ہے اسے دشمن کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اور بدقسمتی سے ہمارے ملک کے کچھ سیاسی کارکنان بھی اس میں شامل ہیں۔”
“مال یہاں تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہاں سے آگے وہ دو جگہ سپلائی ہوتا ہے۔ملک سے باہر بھی اور ملک کے اندر بھی۔
ملک سے باہر یہ دوسرے ایشیائی ممالک کو بھیجا جاتا ہے جبکہ ملک کے اندر یہ شہر کے اردگرد کی یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز میں جاتا

 

ہے۔
گرلز اور بوائز دونوں ہاسٹلز میں۔
اس کے علاوہ یہ مشہور سائکیٹرسٹ کے کلینک میں بھی جاتا ہے جہاں ڈپریشن سے بدحال لوگ علاج کے لیے آتے ہیں اور وہ ڈاکٹرز ان پیشنٹس کو یہ منشیات دیتے ہیں جو کہ ایسا سکون دیتی ہیں کہ تین گھنٹوں میں ہی انسان ایسا آرام دہ فیل کرتا ہے کہ اگلی بار وہ اس کی ڈبل مقدار کھا لیتا ہے۔پھر آہستہ آہستہ یہ ڈرگز جسم کی ضرورت بن جاتی ہے۔
سر ہمارے ملک میں یہ نیٹ ورک بے حد تیزی سے اور بہت حد تک پھیل چکا ہے۔
جو ڈرگز باہر کے ممالک جاتی ہیں وہ پیکٹس میں بند ہو کے نہیں جاتیں بلکہ برآمدات کے ذریعے جاتی ہیں جیسا کہ کپاس،فائبر اور     فروٹ وغیرہ جو جو پاکستان برآمد کرتا ہے یہ منشیات ان برآمدات والے لوڈرز میں رکھی جاتی ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
ان تین جگہوں پہ ایک مہینے میں دس ملین کی ڈرگز فروخت ہوتی ہیں۔اس ساری رقم۔کے تین حصے ہوتے ہیں ایک حصہ دشمن کا ، ایک رستم شاہ کا جبکہ تیسرا حصہ ہمارے سیاسی کارکنان اور سول سروسز میں موجود ضمیر فروشوں کا۔
تمام ڈرگز رستم شاہ کے کمپاؤنڈ میں موجود ہوتی ہیں مگر خود وہ شہر کے ڈیفینس ایریا میں ایک بنگلے میں رہتا ہے۔
ویسے تو اسکی بہت سی الیگل شادیاں ہیں لیکن اگر صرف لیگل کی بات کی جائے تو تمام ایشیائی ممالک میں اس کی ایک ایک بیوی موجود ہے۔اس کا ایک بیٹا بھی اس دھندے میں ہے جو پاکستان میں کیہان شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے اس کی عمر بیس سال ہے اور وہ اپنے باپ کا رائٹ آرم ہے جبکہ اسکی ماں کولمبو میں رہتی ہے۔یہ اسکی پہلی لیگل بیوی کا بیٹا ہے۔
مال کی سپلائی اس اتوار کو دوبارہ ہو گی لیکن انشاءاللہ بیس دن بعد وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔”
یہ پچھلے آٹھ گھنٹے میں اکٹھی کی گئی معلومات تھیں جو وہ اپنے باس سے شئیر کر رہا تھا۔
انہوں نے فخر سے اسے دیکھا وہ صرف میجر شاہان نہیں تھا وہ انکا رائٹ ہینڈ بھی تھا۔اس کے اسی سٹرانگ ڈیٹرمینیشن کے باعث   انہوں  نے یہ اسائنمنٹ اسے سونپی تھی۔
“سر مجھے اس شخص پہ ہاتھ ڈالنے کے لیے لیگل اور الیگل تمام تعلقات استعمال کرنے پڑیں گے۔”
“ڈونٹ وری تمہیں جو سپورٹ چاہیے وہ ملے گی لیکن پچیسویں دن مجھے رستم شاہ کا سر چاہئے۔ٹھیک پچیس دن بعد ہماری دوبارہ

میٹنگ ہو گی۔”

 

“انشاءاللہ ضرور۔اگر زندگی رہی تو میں خود آپکو رپورٹ پیش کرونگا ورنہ میری جگہ میجر عثمان اور کیپٹن عمر آپکو یہ رپورٹ دیں  گے۔”
“اوکے۔اللہ پاک ہمیشہ تم سب کا حامی و ناصر ہو۔اب اپنا کام شروع کرو۔اللہ حافظ۔”
ان سب نے باس کو کھڑے ہو کر سلیوٹ کیا۔
جاتے جاتے انہوں نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر مسکراتے ہوئے میجر شاہان کو تھمبز اپ کا اشارہ دیا تھا۔
آن ڈیوٹی ایک دوسرے کو کسی ریلیشن سے مخاطب کرنا جاب کے اصول کے خلاف تھا۔ اسی لیے بہت کم لوگ جانتے تھے کہ انکو حکم دینے والا شخص صرف انکا باس ہی نہیں بلکہ میجر شاہان سکندر کا باپ بھی ہے۔

About Admin

Check Also

dil ki dharkan ho tum episode 4

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq Dil Ki Dharkan Ho Tum …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *