Home / Episodic Novels / Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq

Dil Ki Dharkan Ho Tum Episode 2 By Farwa Mushtaq is now published here. So You can read this Urdu Romantic novel Online and download its PDf here.

دل کی ڈھڑکن ھو تم

قسط نمبر 2

 

dil ki dharkan ho tum episode 2
dil ki dharkan ho tum Episode 2

باس کے جانے کے بعد اب کمرے میں سات لوگ موجود تھے۔
“کیپٹن عمر! میں نے آپکو اس بنگلے کی نگرانی کو کہا تھا۔”
شاہان نے کیپٹن عمر کو مخاطب کیا۔
“یس سر۔میں انفارمیشن کلیکٹ کر چکا ہوں۔رستم شاہ کے پاس ایشیا کے تمام ممالک کی نیشنلٹی ہے۔اسے جس ملک میں خطرہ ہو وہ وہاں سے موو کر جاتا ہے لیکن پچھلے آٹھ سال سے وہ پاکستان کے شرفاء میں شامل ہے کیونکہ پولیس اسکی وفادار ہے۔اگر کوئی غلطی سے ایماندار نکل آئے تو وہ اسے ساتھ ہی ختم کر دیتا ہے۔پچھلے چار سالوں میں چھ ایس پی اور تین ڈی ایس پی جعلی مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔
ڈیفینس ایریا کے فرنٹ سائڈ کے تمام بنگلے رستم کی ملکیت ہیں۔بیک سائڈ پہ ہمارے شہری بستے ہیں۔دنیا کے دکھاوے کو وہ ایک بزنس مین ہے۔بنگلے میں اسکے تیرہ ملازم موجود ہیں۔
اس کے بنگلے میں پچھلے آٹھ گھنٹوں میں ایک لڑکی کو انٹر ہوتے دیکھا گیا ہے اور پورے 23 منٹس کے بعد وہ لڑکی واپس آئی لیکن ان تیئس منٹ میں اس میں ایک چینج آیا وہ بنگلے میں انٹر جوگر پہن کر ہوئی تھی لیکن واپسی پہ اسکے پاؤں میں ہیل تھی۔یہ اس لڑکی کا بائیو ڈیٹا ہے۔اسکا تعلق کولمبو سے ہے۔نام ماشگی کوکب اور عمر تیئس سال ہے۔کل کی رات اس نے کیہان شاہ کے بنگلے میں گزاری ہے۔”
عمر نے کہتے ہوئے فائل شاہان کی جانب بڑھائی۔
فائل میں ماشگی کے آئی ڈی کارڈ کے ساتھ ساتھ ٹکٹ کی کاپی ، رہائش کی دستاویزات اور سیٹ کی کنفرمیشن کاپی بھی موجود

 

تھی۔
“یہ تو کل واپس جا رہی ہے۔”
“یس سر۔یہ کل صبح تین بجے سری لنکا کے لیے فلائی کر جائے گی۔”
“نو عمر نو۔یہ پاکستان سے باہر نہیں جانی چاہیے۔اس کو اپنے سیل کا مہمان بناؤ اور رستم کو یہی خبر ملے کہ وہ کولمبو پہنچ چکی ہے۔”
“اوکے سر۔”
“اسے سیل میں لانے سے پہلے شہر کے باہر کسی ویرانے میں اس کے جوتے اتروا لینا۔ان میں سینسرز لگے ہیں۔لیڈیز کانسٹیبل سے کہنا اس کے بالوں کی جڑوں سے لے کر ناخن تک چیک کرے۔غلطی سے بھی کوئی غلطی نہ ہو۔”
“اوکے سر۔”
کیپٹن عمر نے سر ہلایا لیکن اس کی بات پہ میجر عثمان کے چہرے پہ پریشانی کے سائے لہرائے۔وہ منہ پہ ہاتھ کی مٹھی رکھے فکر مندی سے شاہان کو دیکھ رہا تھا۔
“کیا بات ہے عثمان۔آر یو اوکے ؟”
“شاہی وہ سب تو ٹھیک ہے۔لڑکی سیل میں آ جائے گی مگر ایک مسئلہ ہے۔”
“وہ کیا ؟”
“یار وہ لڑکی پٹاخ پٹاخ انگریزی مارتی ہے۔مجھے تو اردو بڑی مشکل بولنے آتی ہے۔اس سے پوچھ گیچھ کیسے کروں گا۔”
عثمان کی بات پہ بلند قہقہوں کے ساتھ ان سب کے ہاتھ ہوا میں لہرا کر ایک دوسرے سے ٹکرائے۔
“تم سب ہنس رہے ہو۔مجھے نئی ٹینشن ہو رہی ہے۔شاہی تو اس سے پوچھ گیچھ خود کرنا۔وہ انگلش اور سنہالی بول سکتی ہے۔”
“تم صاعقہ(عثمان کی منگیتر) سے کہنا اسے ہینڈل کرے۔میں ایک ہفتے بعد سیل کا چکر لگاؤں گا۔ابھی مجھے جانا ہے۔عمر سیل ساؤنڈ پروف ہونا چاہیے۔اس تک آنے والی تمام ویوز(لہریں) روک دو۔”
“اوکے سر۔”
“ناؤ وؤئی سٹارٹ آؤر ورک۔اللہ پاک ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کرے۔”
اس کے کہنے پہ سب آمین کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

 

_______________________
رستم شاہ بلیک ٹو پیس میں ملبوس سگار کے کش لیتے لیپ ٹاپ کی کیز دبا رہا تھا۔اشرف(خاص ملازم) پچھلے دو گھنٹوں سے مؤدب بنا اس کے پاس کھڑا تھا۔تبھی اشرف کے موبائل کی بیپ ہوئی۔رستم کے ماتھے پہ رگ ابھری۔اشرف نے ڈرتے ڈرتے اسکی جانب دیکھ کر آنے والی کال کاٹ دی۔
“ماشگی پہنچ چکی ہے؟”
“جی صاحب۔اس نے پہنچنے کی اطلاع دے دی تھی۔”
“کس وقت ؟”
“تین گھنٹے پہلے۔”
“بات کرواؤ میری۔”
کچھ دیر بعد لائن کے دوسری جانب ماشگی کی آواز آئی۔اس کے خیریت سے پہنچ جانے اور کام ہو جو جانے پہ رستم کی سانس بحال ہوئی۔
ماشگی کی کال بند ہوتے ہی دوبارہ اشرف کے نمبر پہ کال آنے لگی۔
“جاؤ جا کر سنو اسے اور آئندہ فون بند رکھنا۔”
“جج۔۔۔جی۔۔۔صاحب۔”
وہ فوراً کہہ کر کمرے سے باہر نکلا۔لائن کے دوسری جانب اس کی بیوی تھی۔
“ہاں کرو بکواس۔۔۔کیا تکلیف ہے؟”
وہ فون کان کو لگائے آہستہ آواز میں گرجا لیکن دوسری جانب کی بات سن کر پتہ چلا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنا کسے کہتے ہیں۔
“مم۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔ابھی آ رہا ہوں۔تم مسجد میں اعلان کرواؤ۔اردگرد پتہ کرو کہاں جا سکتا ہے وہ۔تم کہاں مری ہوئی تھی۔کیسے باہر نکل گیا وہ۔”
“اچھا۔۔۔اچھا میں ابھی آ رہا ہوں۔”
وہ آنسو صاف کرتا باہر کو بھاگا۔
پچھلے آٹھ سال سے وہ رستم شاہ کے ساتھ تھا۔ان گزرے آٹھ سالوں میں وہ رستم کا رائٹ ہینڈ بن چکا تھا۔وہ اس کے وفادار ملازموں میں سے تھا۔رستم کے انڈر گراؤنڈ ہونے کی صورت میں کمپاؤنڈ اور بنگلے کی حفاطت اس کی ذمہ داری تھی۔آٹھ سالوں میں پہلی بار وہ رستم کی اجازت کے بغیر باہر کو بھاگا تھا۔
جب ایک گھنٹے بعد بھی وہ واپس نہ آیا تو رستم نے اسکا نمبر ملایا۔
“معافی چاہتا ہوں صاحب۔آج پہلی بار غلطی ہوئی ہے جی۔میرا بیٹا گم ہو گیا ہے جی۔پورے گاؤں میں پتہ کیا ہے وہ کہیں نہیں ہے۔صرف چار سال کا ہے۔مجھے معاف کر دیں میں آپکو بتانا بھول گیا۔”
“بھاڑ میں جھونکو بیٹے کو اور فوراً واپس آؤ۔”
اس نے کہہ کر فون رکھ دیا۔
اشرف ضبط کرتا اردگرد کے گاؤں میں اعلان کرواتا ایک شخص کے ہمراہ واپس ہو لیا۔
“مجھے معاف کر دیں صاحب۔مجھ سے غلطی ہو گئی۔میرا صرف ایک بیٹا ہے جی۔شادی کے دس سال بعد ہوا ہے۔وہ تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلا اب وہ دوپہر سے غائب ہے۔صاحب آپ چاہیں تو وہ دس منٹ میں واپس آ سکتا ہے۔مجھ پہ رحم کریں۔میرے بیٹے کو کہیں سے لا دیں۔میں ساری عمر آپکی خدمت میں رہوں گا جی۔”
وہ گڑگڑاتے ہوئے اس کے پاؤں میں آ بیٹھا۔
“اٹھو ادھر سے۔میرے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں ہے کہ تم لوگوں کی اولادوں کو ڈھونڈتا پھروں۔وہ سامنے والے دراز سے دو نوٹوں کی گڈیاں اٹھاؤ۔پیسہ لگاؤ آ جائے گا تمہارا بیٹا۔فکر نہ کرو نہیں مرتا وہ۔”
بیٹے کے بارے میں ایسی بات پہ دوسروں کی اولادوں کو پاؤں تلے روندنے والے اشرف کا دل کانپ گیا۔
“صاحب خدا کے لیے ایک مہربانی کر دیں۔پھر مجھے چھٹی دے دیں کچھ دنوں کے لیے۔جیسے ہی میرا بیٹا واپس آیا میں فوراً آ جاؤں گا جی۔”
“کیا بکواس ہے یہ۔تمہارا بیٹا ساری زندگی نہ آئے تو اسکا مطلب تم یہاں نہیں آؤ گے۔اس اتوار مال کی ڈلیوری ہے۔”
رستم کی دھاڑ پہ لاؤنج میں موجود اشرف کے ساتھ آیا دوسرا آدمی کانپ گیا۔
“نہیں صاحب۔میں اسی لیے اس کو ساتھ لایا ہوں۔اس کو میں نے ایک ایک چیز سمجھا دی ہے۔آپ کو کوئی شکایت نہیں ہو گی۔چاہے تو اسکی چمڑی ادھیڑ دیجیے گا یہ اف بھی نہیں کرے گا۔میرا بیٹا جیسے ہی مل گیا میں اسی وقت واپس آ جاؤنگا ۔مجھ پہ تھوڑا سا رحم کریں۔مجھے اسے ڈھونڈنے دیں۔”
وہ رحم کی اپیل کرتا دوبارہ اس کے پاؤں میں آ بیٹھا۔رستم نے نظر کی نظر اٹھا کر سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا۔
تیل کے ساتھ چوپڑے ہوئے بال، گہرے گلابی رنگ کا مردانہ سوٹ پہنے ،پاؤں میں گھسی سی چہل اور کسی سستے سے پرفیوم کی پوری بوتل خود پہ انڈیلے وہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
اس کا جائزہ لے کر رستم نے اشرف کی طرف دیکھا۔
“جی یہ زلفی ہے۔بڑے غریب گھر کا ہے مگر ہے بہت وفادار۔بس نوکری نہیں مل رہی۔میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں۔یہ کبھی کوئی گڑ بڑ نہیں کرے گا۔جو آپ کہیں گے وہی کرے گا۔میں نے ہر چیز اس کو سمجھا دی ہے۔”
اس کی بات پہ رستم نے اسکے آگے ہاتھ کیا۔اشرف نے فوراً زلفی کا شناختی کارڈ اس کو دیا۔
“کون کون ہے تمہارے گھر میں؟”
رستم نے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے سامنے کھڑے لڑکے سے پوچھا۔
“جی اماں اور میں ہوں۔باقی ڈنگر بھی رکھے ہوئے ہیں اور کُکڑیاں بھی ہیں جی۔ابھی پرسوں اماں ایک آنڈوں والی کُکڑی لائی ہے۔پچھلی دو تو ماسی جنتے کی بلی کھا گئی جی۔”
“صاحب انسانوں کی بات کر رہے ہیں۔”
اشرف نے دانت پیس کر کہا۔
“وہ جی بس میں اور اماں ہی ہیں۔”
“تم جاؤ اشرف اور وہاں سے پیسے نکال لو۔”
رستم نے اشرف کو جانے کا اشارہ کیا۔
“بہت بہت شکریہ صاحب۔آپکی بڑی مہربانی۔میں بہت جلد واپس آ جاؤنگا۔”
وہ دراز سے نوٹوں کی دو گڈیاں اٹھا کر باہر نکل گیا۔
“باپ کہاں ہے تمہارا؟”
رستم نے دوبارہ زلفی سے پوچھا۔
“جی میں چھوٹا سا تھا جب ابا مجھے اور اماں کو دھوکہ دے کر چلا گیا۔”
“کہاں؟”
“اللہ کے پاس جی۔”

 

رستم نے اس کی بات پہ سر جھٹک کر انٹر کام پہ ایک ملازم کو اندر بلایا۔
“یہ آئی ڈی کارڈ لے جاؤ۔اگلے بیس منٹ میں مجھے اس کے متعلق کمپلیٹ انفارمیشن چاہیے اور یہ اشرف کا پتہ کرو کہاں گیا ہے وہ۔”
اس نے اندر آنے والے ملازم کو کارڈ تھمایا۔
“ہاں بھئی زلفی۔کیا کیا بتایا ہے تمہیں اشرف نے؟”
“جی اس نے کہا ہے جو صاحب کہیں وہی کرنا ہے۔وہ جو کہیں اس پہ عمل کرنا۔ادھر ادھر نہیں دیکھنا اور جو کچھ وہاں پہ ہو اس کی خبر فرشتوں کو بھی نہ ہو۔”
“کتنا پڑھے ہوئے ہو ؟”
“بس جی کچی اور پکی پڑھی تھی پھر اماں نے اسکول سے ہٹا لیا۔ابا جو نہیں تھا پھر ڈنگروں کو میں نے ہی سنبھالنا تھا۔”
اشرف کیا لگتا ہے تمہارا”۔
وہ اس کے بارے میں ایک ایک بات کرید رہا تھا۔کچھ منٹس بعد ہی زلفی کا ڈیٹا ہاتھ میں آتے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا تھا۔
“جی میری اماں کی چاچی کی خالہ کا داماد ہے۔”
“اب تمہاری اماں کو کون سنبھالے گا۔تم تو یہاں پہ ہو۔”
“جی وہ ایک منڈے کو کہہ کر آیا ہوں کہ اماں کا خیال رکھے اور کُکڑیوں کو بھی دانہ ڈال دے۔ڈنگر سارے تو خود ہی پانی پی آتے ہیں نہر سے جی۔”
“تم کام کے بندے ہو اگر تمہاری زبان کاٹ دی جائے۔”
رستم کی بات پہ زلفی نے لرز کر سرمے والی آنکھوں کو گول گول گھمایا۔
“معاف کر دیں جی۔آئندہ نہیں بولوں گا۔آپ بس مجھے نوکری دے دیں۔آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گا۔اب تو گھر کا چولہا بھی بند ہو گیا ہے۔”

 

ٹھیک بیس منٹ بعد اس کے کنٹرول روم کے آپریٹر نے ایک فائل اس کی جانب بڑھائی۔
وہ شناختی کارڈ اور فائل پہ پرنٹ کیا ڈیٹا میچ کر رہا تھا۔ساتھ زلفی کی ماں کی تصویر موجود تھی۔
“اس سے پہلے بھی کہیں کام کیا ہے تم نے؟”
“ہاں جی۔اشرف نے ہی ایک نوکری دلوائی تھی لیکن پندرہ دن بعد ہی انہوں نے مجھے کام سے نکال دیا۔”
“کیوں؟”
“وہ جی پہلے تو اشرف کا ان لوگوں کے ساتھ اچھا میل جول تھا پر جب سے اشرف نے انہیں پڑیاں اور پیکٹ دینے بند کیے انہوں نے مجھے بھی کام سے نکال دیا۔حالانکہ میرا تو کوئی قصور نہیں تھا میں تو وہاں جھاڑو دیتا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے نکال دیا بس جی وڈے لوگ وڈیاں گلاں۔”
اس کی بات پہ رستم کے ہاتھ سے فائل گرتے گرتے بچی۔
“کونسی پڑیاں اور پیکٹ؟”
زلفی ادھر ادھر دیکھتے اس کے قریب ہوا۔
“وہ جی آپ کسی کو بتائیں گے تو نہیں۔کہیں میری یہ نوکری نہ چلی جائے۔اب تو ایک کوکڑی آنڈے نہیں دے رہی۔گھر میں کچھ کھانے

کو بھی نہیں ہے۔”

 

“تم بولو جلدی۔”
رستم کا ایک ایک عضو کان بن گیا۔
“وہ جی اشرف نا ہر منگل کو دو ڈبے لاتا ہے بڑے بڑے۔اس میں بہت ساری پڑیاں اور پیکٹ ہوتے ہیں۔بند ہوتے ہیں جی۔وہ ایک ایک پیکٹ کے بہت سارے پیسے لیتا ہے۔جہاں میں پہلے کام کرتا تھا وہاں پہ وہ پورا ایک ڈبہ دیتا تھا جس میں تقریباً ہزار پیکٹ ہوتا ہے اور وہ لوگ ہر بار نوٹوں کا بریف کیس دیتے تھے اشرف کو۔جب میں نے اس سے پیسے مانگے تو اشرف نے ایک تھپڑ مارا میرے اور کہا میں نوکری ختم کروا دوں گا اگر کوئی بات کی۔دیکھیں جی۔میں آپکے پیر پڑتا ہوں۔آپکو تو اپنا سمجھ کے بتا دیا میں نے۔آپ اشرف کو نہ بتانا ورنہ وہ مجھے یہاں سے بھی نکال دے گا۔”
رستم کے اندر ابال اٹھ رہا تھا۔
“اس کا بیٹا کہاں پہ ہے۔۔۔کیا واقعی غائب ہوا ہے ؟”
“جی کہہ تو سب یہی رہے ہیں۔مولوی رفیق نے مسجد میں اعلان بھی کیا تھا۔لیکن مجھے پتہ ہے اسکا بیٹا کہاں پہ ہے؟”
“تمہیں کیسے پتہ۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔کہیں تم نے تو نہیں اٹھوایا؟”
“رب سوہنا معاف کرے جی۔میں کیوں اٹھاؤں گا اللہ معاف کرے۔میری توبہ۔”
زلفی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو تھوک لگا کر باری باری کانوں کو لگایا۔
“پھر کہاں ہے وہ؟”
“وہ جی ماسی جنتے کہہ رہی تھی کہ قبرستان والے کیکر کی چڑیلیں اس کے بیٹے کو اٹھا کر لے گئی ہیں۔وہ روز قبرستان والے میدان میں کھیلنے جاتا تھا نا چھوٹے بچوں کے ساتھ۔”
“لعنت ہو تم پر۔”
رستم نے غصے سے اسے دیکھتے ایک ملازم کو اندر آنے کا کہا۔
“اشرف پہ چیک رکھو۔وہ کہاں جاتا ہے۔کیا کرتا ہے۔کس سے ملتا ہے۔ساری ڈیٹیل چاہیے مجھے۔”
ملازم سر ہلا کر باہر چلا گیا۔
“یہ کون ہے زلفی؟”
اس نے ایک تصویر زلفی کی جانب لہرائی۔
“جی یہ تو میری اماں ہے۔پر آپ کے پاس میری اماں کا فوٹو۔۔۔”
“زلفی آج سے تم میرے ساتھ رہو گے۔میں جو کہوں گا وہ کرو گے۔اگر ہلکی سی بھی ہیرا پھیری ہوئی تو تمہارا اور تمہاری اماں کا کام ختم۔”
“نہیں جی نہیں۔آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گا۔”

اس نے تابعداری سے رستم کی ٹانگیں دباتے ہوئے کہا جبکہ رستم کا ذہن اس وقت اشرف میں اٹکا ہوا تھا۔

 

________________________
“تم واقعی کراچی جا رہے ہو ؟”
تاشیہ لاؤنج کے دروازے کے پٹ سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔وہ اس کے تفتیشی انداز پہ مسکرایا۔
“نہیں تو۔گلی ڈنڈا کھیلنے جا رہا ہوں آؤ اکٹھے چلتے ہیں۔”
“مجھے کیوں تمہاری باتیں مشکوک لگ رہی ہیں۔”
اس کی بات پہ وہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجاتا اس سے ایک قدم کے فاصلے پہ کھڑا ہوا۔
“مشکوک لوگوں کو ہر چیز مشکوک ہی لگا کرتی ہے۔”
“آج رات انسانوں کی طرح گھر آنا ہے۔”
تاشیہ نے انگلی اٹھا کر کہا۔
“تم کونسا میرا انتظار کرتی ہو۔کیا فائدہ؟”
“اٹس مین مجھے اگین ڈیڈی کی ہیلپ لینی پڑے گی۔”
تاشیہ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
“محترمہ۔آپکے ڈیڈی کے کہنے پر ہی جا رہا ہوں۔”
اس نے تاشیہ کے پیچھے موجود دروازے پہ ہاتھ رکھا۔
“اوکے پھر چوتھے دن واپس آنا ہے۔چار دن کا مطلب صرف چار دن۔”
“نہیں تو۔تم بلاؤ گی تو پہلے بھی آ سکتا ہوں۔”
تبھی ڈیڈی کو سیڑھیوں سے آتا دیکھ کر وہ فوراً پیچھے ہٹا۔
“اب تک گئے نہیں بیٹا۔۔۔کب کی فلائٹ ہے؟”
“جی جا رہا ہوں ڈیڈی۔۔۔بس آدھا گھنٹہ ہے فلائٹ میں۔”
“اوکے پھر چلتا ہوں میں۔”
وہ ڈیڈی سے مل کر اسے مسکراتی نظروں سے دیکھتا لاؤنج سے باہر نکل گیا۔

 

Please support us by providing your important feedback:
Share this post as much as possible at all platforms and social media such as Facebook, Twitter, Pinterest & Whatsapp. Share with your friends and family members so that we are encourage more and more to bring you much more that you want. Be supportive and share your comments in below comments section. So that we can be aware of your views regarding our website.

Your best Urdu Digest, Novels, Afsanay, Short Stories, Episodic Stories, funny books and your requested novels will be available on your request.

Urdu Novels and Episodic series of your top most favorite novelists. Easy to read online as well as offline for download in pdf. Just visit us and search for your favorite novel and read online. Click Download to get to copy of PDF file into your device for offline reading.

About urdudigestonline

Check Also

Khawateen Digest November 2018 UrduDigestOnline.com

Khawateen Digest November 2018

Download Khawateen Digest November 2018 Now exclusively, Finally UrduDigestOnline Presenting you monthly “Khawateen Digest November 2018″ for downloading that is …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *